ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / یوپی کے بعد اب گجرات؛ احمد آباد کے ہسپتال میں 3 دن کے اندر 18 نومولود بچوں کی موت

یوپی کے بعد اب گجرات؛ احمد آباد کے ہسپتال میں 3 دن کے اندر 18 نومولود بچوں کی موت

Mon, 30 Oct 2017 08:05:40    S.O. News Service

احمدآباد، 29؍ اکتوبر (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا)گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں جس گجرات ماڈل کے نام پر بھگوا لہر چلائی گئی تھی اب اس گجرات ماڈل کے غبارہ سے رفتہ رفتہ ہوا نکل رہی ہے ۔ نوزائیدہ بچوں کی ہلاکت بی جے پی کے ز یرِاقتدارگورکھپوراورجمشیدپور تک ہی محدود نہیں ہے ؛ بلکہ نوزائیدہ بچوں  کی شمع حیات گل کرنے میں گجرات بھی اپنی شراکت کا اہتمام کررہا ہے۔

موصولہ اطلاع کے مطابق گجرات کے احمد آباد میں واقع سول ہسپتال میں جمعہ کی رات سے سنیچر کی رات کے درمیان 9 نوزائیدہ بچوں کی موت نے صوبہ میں ہلچل مچادی ہے وہیں لواحقین کے یہاں صف ماتم بچھ گئی ہے ۔ نوزائیدہ بچوں کی موت کے بعد محکمہ صحت نے معاملے کی تحقیقات کے لئے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے جو ان 18نومولود بچوں کی موت کی اصل وجوہات کی تفتیش کرے گی ۔ ان کی موت کے بعد کانگریس نے بھی گجرات حکومت سے اس پر جواب مانگا ہے ۔ وہیں اس واقعہ کو لے کر کانگریس کارکنوں نے ہسپتال کے باہر احتجاج بھی کیا۔اس ہسپتال میں نومولود بچے کی موت کی شرح اوسطاً روزانہ 5 سے 6 اموات کا ہے، 9 بچوں کی موت تشویش ناک صورت حال اختیار کرگئی ہے۔ اگرچہ ہسپتال انتظامیہ کسی غیر معمولی واقعہ سے انکار کر ر ہی ہے ۔ مگر تین رکنی انکوائری کمیٹی کی قیادت کر رہے ڈاکٹر آر کے دکشت نے صحافیوں سے ہوئی بات چیت میں کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں اس ہسپتال میں جن بچوں کی موت ہوئی ہے کمیٹی ان میڈیکل ہسٹری کی جانچ کرے گی۔ جیسا کہ اس ہسپتال میں بہترین طبی سہولیات ہیں، لہذا کئی معاملے میں یہاں مریضوں کو ریفرکیے جاتے ہیں۔ بادی النظر میں یہ طبی لاپرواہی کا معاملہ نہیں لگتا ہے ؛لیکن کمیٹی اس معاملے کی تفصیلی تفتیش کرے گی اور اپنی رپورٹ پیش کرے گی ۔ واقعہ کے وقت تمام ڈاکٹرس اور نرس اپنی ڈیوٹی پر تھے۔ یہ گجرات میں بچوں کا سب سے آخری ریفرل سینٹر ہے جس میں تقریبا 100 بستر ہیں۔ تاہم اس واقعہ کے پیش نظر سیاست بھی ہونے لگی ہے ۔ کانگریس لیڈر شکتی سنگھ گوئل نے ٹویٹ کر کے کہا کہ گجرات حکومت کو اس کے لئے احتساب قبول کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت یا تو اس کو قبول کرے کہ ڈاکٹروں نے غفلت اختیار کی یا پھر اس نکتہ کو قبول کرے کہ نومولود کی مائیں قلت تغذیہ کی شکار تھیں۔


Share: